ایرانیان بلوچ مقیم ہند

تحریر: محمد جواد حبیب
خلاصہ
ایرانیان بلوچ کی ہجرت برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم مگر کم شناسا باب ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں بلوچستان، کرمان اور سیستان کے قبائل بہتر معاشی امکانات، قدرتی آفات اور ناامنی سے نجات حاصل کرنے کے لیے برصغیر ہجرت کر گئے۔ ہندوستان میں ان کے لیے ’’بلوچی‘‘ کا نام عام ہوا، لیکن وہ ہمیشہ خود کو ایرانی اور غریب الوطن سمجھتے رہے۔ ان کی معاشی سرگرمیاں زیادہ تر دست فروشی، خانہ بدوش طرزِ حیات اور دستکاری سے وابستہ رہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ہندوستانی سماج میں مدغم ہوئے، تاہم عزاداریِ سیدالشہداء امام حسینؑ اور فارسی آمیز زبان آج بھی ان کی ایرانی شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
یہ مقالہ ان کی ہجرت کی وجوہات، معاشرتی و لسانی پہلوؤں، معیشت، حکومتِ ہند کے رویے اور موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے۔
ہجرت کی تاریخی بنیادیں
ایرانی بلوچوں کے ہندوستان آنے کے تین بڑے اسباب تھے:
1. ایران کے مشرقی سرحدی علاقوں میں شورشیں اور قبائلی تنازعات۔
2. بار بار آنے والے قحط اور خشک سالی۔
3. برصغیر کے شہروں اور بازاروں میں روزگار کے مواقع۔
سماجی و لسانی شناخت
یہ گروہ ایران میں "عشایر" یا "کولی" کے طور پر جانے جاتے تھے مگر برصغیر میں ’’بلوچی‘‘ کہلائے۔ ان کی اصل زبان فارسی اور بلوچی تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو اور ہندی کو بھی اپنالیا۔ دینی طور پر وہ مسلمان رہے اور آج بھی ان کے مذہبی اجتماعات، خاص طور پر عزاداریِ سیدالشہداء امام حسینؑ اور دیگر دینی رسومات، ان کی اجتماعی شناخت کا بنیادی حصہ ہیں۔
جغرافیائی استقرار
ایرانی بلوچ آج مختلف ریاستوں میں آباد ہیں، مثلاً:
- راجستھان، اتر پردیش اور بہار کے نواحی علاقے۔
- گجرات اور مہاراشٹر کے تجارتی مراکز۔
- مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں، جہاں ان کا سردار رہتا ہے اور ایک نمایاں حسینیہ ان کا مذہبی و سماجی مرکز ہے۔
- جنوبی ہند (کرناٹک، تامل ناڈو، آندھرا پردیش) اور مشرقی ہند (مغربی بنگال) میں بھی چھوٹے گروہ موجود ہیں۔
اکثر بلوچ خاندان ریلوے اسٹیشنوں کے قریب بس گئے تاکہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔
معیشت اور پیشے
ان کا بنیادی معاش دستکاری، دست فروشی، لوہے اور تانبے کے کام، اور خانہ بدوش تجارت پر مبنی تھا۔ خواتین فال گیری اور گلی کوچوں میں فنونِ لطیفہ پیش کرنے میں بھی شریک رہتی تھیں۔ یہ غیر رسمی معیشت ان کی سماجی کمزوری اور حاشیے پر رہنے کا سبب بنی۔
موجودہ صورتحال
بیسویں صدی میں ان کا ایک حصہ شہروں میں یکجا ہو کر نسبتاً مستحکم روزگار اپنانے لگا۔ آج ان کی آبادی تقریباً دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ زبانِ فارسی اب اردو اور ہندی کے ساتھ خلط ملط ہو گئی ہے، لیکن عزاداریِ محرم ان کی ثقافتی اور دینی شناخت کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔
حکومتِ ہند کا رویہ
حکومتِ ہند نے ان کے ساتھ عمومی طور پر غیر مداخلتی پالیسی اپنائی ہے:
- قانونی طور پر انہیں مقامی شہریت دی گئی، مگر ان کی ایرانی شناخت بعض اوقات امتیازی سلوک کا باعث بنتی ہے۔
- حکومتی ترقیاتی اسکیموں میں یہ گروہ شاذ و نادر ہی شامل ہوئے ہیں، جس کے باعث وہ آج بھی غربت اور غیر رسمی معیشت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
- تعلیم اور صحت کی سہولتیں اصولاً سب کے لیے کھلی ہیں، لیکن سماجی کمزوری اور معاشی ناتوانی کے باعث وہ ان سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
- ان کے مذہبی اور ثقافتی اجتماعات کو برداشت کیا جاتا ہے، تاہم سرکاری سرپرستی یا فروغ موجود نہیں۔
نتیجہ
ایرانی بلوچ مقیم ہند اپنی تاریخ، زبان اور مذہبی رسومات کے ذریعے اپنی ایرانی جڑوں کو آج بھی محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوستانی سماج میں مدغم ہو چکے ہیں، لیکن سماجی اور معاشی لحاظ سے محروم اور حاشیے پر ہیں۔ حکومتِ ہند نے ان کے ساتھ برداشت اور شہری برابری کا رویہ تو اپنایا ہے، لیکن ان کی ترقی کے لیے کوئی جامع پالیسی سامنے نہیں آئی۔ یہ طبقہ مزید تحقیق، سماجی توجہ اور تاریخی دستاویزات کا متقاضی ہے تاکہ ان کی شناخت اور کردار کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
حوالہ جات / ریفرنسز
1. Encyclopaedia Iranica, Entry: "Gypsies in Iran and India". New York: Columbia University Press.
2. Qureshi, Regula Burckhardt. The Indian Diaspora: Historical and Contemporary Perspectives. Oxford University Press, 1996.
3. Khan, Sharif Shuja. "Nomadic Communities in India: Identity and Marginality." South Asia Journal of Social Sciences, Vol. 12, 2010.
4. Misra, Satish Chandra. Muslim Communities in India. New Delhi: Inter-India Publications, 1985.
5. Bhattacharya, P. "Migratory Tribes of Rajasthan and Uttar Pradesh." Journal of Asian Studies, Vol. 42, 2001.
6. Ali, Daud. "Iranian Influences in Medieval and Modern India." Cambridge History of India. Cambridge University Press, 2010.







تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرے بند ہیں۔