پیغامِ امن اور عصرِ حاضر کے تقاضے

تحریر: محمد جواد حبیب
اکیسویں صدی کا انسان سائنسی لحاظ سے ترقی یافتہ، مگر روحانی لحاظ سے پسماندہ ہے۔ٹیکنالوجی نے زمین کو ایک عالمی گاؤں میں بدل دیا، مگر دلوں کے فاصلے بڑھا دیے۔آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ہے امن — ایسا امن جو صرف بندوقوں کے سائے میں نہیں، بلکہ انصاف، محبت اور روحانیت کی فضا میں پروان چڑھے۔دنیا بظاہر ترقی کی معراج پر ہے،مگر درحقیقت انسان اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔سائنس نے انسان کو عقل دی، مگر ضمیر چھین لیا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا دیا، مگر انسانیت کے درمیان دیواریں بلند کر دیں۔ہر ملک “امن” کی بات کرتا ہے،مگر اس کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ اسلحہ پر خرچ ہوتا ہے۔ہر تنظیم “انسانی حقوق” کے نعرے لگاتی ہے،مگر لاکھوں انسان بھوک، جنگ اور ناانصافی کا شکار ہیں۔یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں امن کا بحران دراصل اخلاقی و روحانی بحران ہے، نہ کہ صرف سیاسی یا معاشی۔دنیا ایک بار پھر خوف، بے یقینی، اور انتشار کی گرفت میں ہے۔طاقت کے نشے میں مست قومیں امن کی باتیں بھی کرتی ہیں، اور اسلحہ بھی بیچتی ہیں۔انسان نے چاند پر کمند ڈال دی، مگر اپنے دل میں سکون پیدا نہ کر سکا۔یہ وہ لمحہ ہے جب قرآن کی صدا ایک بار پھر انسانیت کو پکارتی ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ — البقرۃ: 208
یہ آیت آج کے انسان کے لیے نجات کا منشور ہے۔اسلام امن کو صرف ایک سیاسی یا وقتی ضرورت نہیں سمجھتا بلکہ اسے زندگی کا اصول قرار دیتا ہے۔
اسلام کا اصل تصورِ امن
اسلام کا لفظ ہی "سلام" سے ماخوذ ہے، یعنی امن، خیر اور سکون۔اسلام انسان کو صرف جنگوں سے نہیں، بلکہ خوف، نفرت، اور نفس کی غلامی سے بھی آزاد کرتا ہے۔
دنیاوی نظام — چاہے وہ سرمایہ داری ہو یا لبرل جمہوریت — انسان کو آزادی تو دیتے ہیں مگر اطمینان نہیں دیتے۔اس وقت انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر دل خالی ہے،ہر طرف روشنی ہے مگر دل اندھیروں میں ہیں۔
اسلام کہتا ہے: امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ کے حکم کے تابع ہو جائے،
جب عدل نظامِ حیات کا مرکز بن جائے،اور جب دوسروں کے حقوق اپنے جتنے عزیز لگیں۔
عدل: امن کی جڑ
قرآن اعلان کرتا ہے:
"إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"
بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے — النحل: 90
اسلام کا امن تلوار سے نہیں بلکہ عدل سے قائم ہوتا ہے۔آج عالمی طاقتیں "امن" کے نام پر کمزور قوموں پر چڑھ دوڑتی ہیں۔ان کے "پرامن ایجنڈے" کے پیچھے معاشی مفاد اور سیاسی تسلط ہے۔اسلام ان تضادات کو بے نقاب کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ امن طاقت سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔
شیطانی تدریج اور جدید گمراہی
قرآن خبردار کرتا ہے:
"وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ"
اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔
آج شیطان نظریات کے لباس میں آتا ہے —"آزادی"، "ترقی"، اور "جدیدیت" کے خوشنما الفاظ کے ساتھ۔لیکن ان کے پیچھے خدا سے بغاوت اور روح سے بیگانگی چھپی ہے۔
علامہ اقبالؒ نے مغربی تہذیب کے اس تضاد کو یوں بے نقاب کیا:
"تمدنِ مغرب کے خدا دو ہیں — مال و زر،
یہ بت کدہ ہے جہاں روحِ محمدؐ نہیں!"
نتیجہ یہ ہے کہ انسان نے مادّی بلندی تو حاصل کی مگر اخلاقی پستی کی دلدل میں اتر گیا۔
دنیا کو اسلام کی ضرورت کیوں ہے؟
دنیا کے بڑھتے بحران، اخلاقی زوال، معاشی تفاوت، اور فکری انتشار نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کے پاس اسلام کے سوا کوئی پائیدار حل نہیں۔
1. اسلام روحانی مرکزیت دیتا ہے۔
مادّہ پرست انسان کو یاد دلاتا ہے کہ سکون صرف ذکرِ الٰہی میں ہے۔
"أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
2. اسلام عدلِ اجتماعی فراہم کرتا ہے۔
طاقت اور دولت چند ہاتھوں کی نہیں، امت کی امانت ہے۔
3. اسلام مساوات اور اخوت سکھاتا ہے۔
حج اس کی عملی مثال ہے — جہاں رنگ، نسل، زبان، سب مٹ جاتے ہیں۔
4. اسلام دلوں میں امن پیدا کرتا ہے۔
ایمان خوف اور لالچ دونوں سے نجات دیتا ہے۔
قرآن کا ابدی انتباہ
"فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ"
اگر تم واضح دلائل کے بعد بھی ہٹ گئے تو جان لو کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے — البقرۃ: 209
یہ پیغام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ امن کی راہ واضح ہے —اب بھٹکنا اپنی ضد ہے، تقدیر نہیں۔دنیا نے اسلام کے بغیر امن تلاش کیا،نتیجہ: دو عالمی جنگیں، معاشی استحصال، نفسیاتی بیماریاں، اور ٹوٹتے خاندان۔
اسلام دنیا کو ہتھیاروں سے نہیں، کردار سے فتح کرنا چاہتا ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ
امن ایمان سے جنم لیتا ہے، اور ایمان عدل سے۔آج اگر انسانیت اپنی بقا چاہتی ہے تو اسےاسلام کے اس ابدی اصول کو اپنانا ہوگا:اسلام امن کے لیے ہے، اور امن اسلام سے ہے۔




